پاکستانی سلامتی کسی بھی صورت سرحد پار دہشت گردی کی نذر نہیں کی جائے گی۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد اپنی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کابل کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکامی ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی دیوار بنی ہوئی ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے مؤقف اپنایا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت ایک طرف تو اسلام آباد کی پالیسیوں پر انگلیاں اٹھا رہی ہے لیکن دوسری طرف افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے اصل اور بنیادی مسئلے سے مسلسل گریز کر رہی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، حکومت نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ دہشت گردی ان کی ریڈ لائن ہے اور شہریوں کا تحفظ ایسا معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ امن کی خواہش کو کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، یہ تازہ ترین بیان اسلام آباد اور کابل کے درمیان ان مسلسل کشیدہ تعلقات کا تسلسل ہے جو سرحد پار سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات نے 24 اکتوبر کے اپنے ایک بیان میں افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں، جن میں کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی شامل ہیں، کے حوالے سے اقوام متحدہ اور امریکہ کی رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے خلاف ناقابلِ تردید کارروائی کریں۔

جیو نیوز کے توسط سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مرتب کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ستمبر 2026 میں پاکستان بھر میں دہشت گردی کے 225 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ 12 برسوں میں کسی بھی ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سفارتی سطح پر رابطوں اور مصالحتی کوششوں کے باوجود— جن میں ستمبر میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاهد کا مذاکرات جاری رکھنے کا بیان بھی شامل ہے— عسکریت پسندوں کے خلاف عملی اقدامات نہ ہونا دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کی اصل جڑ بنا ہوا ہے۔

معاملے کی اہمیت کیوں ہے؟

Pak Dharti TV

پاکستان کے عام شہریوں کے لیے روزمرہ کا امن، زندگی کی سلامتی اور ملک کا استحکام براہِ راست اس سیکیورٹی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ سرحد پار موجود پناہ گاہوں کا یہ دیرینہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ ہے، جس پر اب حکام بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اگلے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔