اردن کے اسپتالوں اور کمیونٹی مراکز کے خاموش دالان ان دنوں کچھ ایسے جانے پہچانے پاکستانی چہروں کے منتظر تھے جو کیمروں اور اسکرپٹس کی دنیا سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے سے محبت اور یکجہتی کا پیغام لے کر پہنچے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، معروف اداکار جاوید شیخ، صبا حمید اور ان کے دیگر ساتھی فنکاروں نے اس فلاحی دورے میں عملی طور پر حصہ لیا جس کا مقصد تنازعات سے متاثرہ اور بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندانوں کو براہ راست امداد اور جذباتی سہارا فراہم کرنا تھا۔

امداد کی تقسیم اور شفقت کا ماحول

اس فلاحی سرگرمی کے دوران وفد نے 500 سے زائد خاندانوں میں ضروری راشن تقسیم کیا۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اداکاروں نے خود آگے بڑھ کر امدادی پیکٹ تقسیم کیے تاکہ اس کڑے وقت میں متاثرہ خاندانوں کو بروقت اشیائے ضرورت مل سکیں۔

مادی مدد کے علاوہ، ان فنکاروں نے اپنا بیشتر وقت ان معصوم بچوں کے ساتھ گزارا جو اردن میں طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ ان ننھے مریضوں کے پاس بیٹھ کر ان کی کہی ہوئی باتیں سننا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا اس وفد کی کوشش تھی کہ مشکلات کا شکار بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائی جا سکے۔

فنی برادری کی جانب سے یکجہتی کا اظہار

جاوید شیخ اور صبا حمید جیسی سینئر شخصیات کی اس مشن میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی ثقافتی شخصیات بھی عالمی سطح پر فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اگرچہ یہ فنکار اپنی ٹیلی ویژن اور فلمی صلاحیتوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، لیکن اس اقدام نے سکرین سے ہٹ کر ان کے فلاحی جذبے کو اجاگر کیا ہے، جو کہ فلسطینی خاندانوں کے لیے پوری پاکستانی قوم کی حمایت اور ہمدردی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔