سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جھوٹی افواہیں کیسے پورے شہر کو ایک لمحے میں شش و پنج میں مبتلا کر سکتی ہیں، اس کا اندازہ پشاور کے والدین اور طلبہ کو اس وقت ہوا جب تعطیلات کی گھڑی نے اچانک کھلبلی مچا دی۔ جیو نیوز کے مطابق پشاور کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پیر کے روز ایک دن کی بندش کے بعد منگل کو معمول کے مطابق دوبارہ کھلیں گے، کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے تعطیلات میں توسیع کے دعوے پر مبنی ایک جعلی نوٹیفکیشن کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دے دیا۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا پر چلنے والے اس فرضی نوٹس کو سرے سے مسترد کر دیا۔ انتظامیہ نے طلبہ، والدین اور عام شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کی گمراہ کن معلومات پر ہرگز دھیان نہ دیں اور کسی بھی قسم کی تازہ ترین صورتحال یا اپ ڈیٹ کے لیے صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے رجوع کریں۔

پس منظر

جیو نیوز نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کے کھلنے اور بند ہونے سے متعلق یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں انتظامی اقدامات کے تحت سختیاں نافذ ہیں، جہاں گورنر راج اور ایمرجنسی بھی نافذ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ پشاور میں دفعہ 144 بھی اس وقت نافذ العمل ہے۔

دوسری جانب جیو نیوز کے مطابق پنجاب بھر میں بھی تعلیمی ادارے پیر کے روز معمول کے مطابق کھلے رہے کیونکہ پنجاب کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تعطیلات کے حوالے سے پھیلنے والے الگ الگ جعلی نوٹیفکیشنز کا بروقت قلع قمع کر دیا۔ دونوں محکموں نے واضح کیا کہ صوبے بھر کے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

معاملہ کیوں اہم ہے

پشاور اور پنجاب کے عام خاندانوں اور بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان متضاد اور بے بنیاد اطلاعات نے غیر یقینی کی فضا پیدا کی، جو کہ حساس انتظامی حالات میں افواہوں کی طاقت کو واضح کرتی ہے۔ ایسے حالات میں مصدقہ سرکاری اعلانات ہی اس بات کی ضمانت بنتے ہیں کہ تعلیمی سلسلہ بلاوجہ کی افواہوں کی نذر نہ ہو۔