دو دہائیوں سے زیادہ طویل عرصے کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ مملکت نے برلن کی سرزمین پر قدم رکھے ہیں، جس کا مقصد اسلام آباد اور یورپ کے درمیان معاشی پلوں کو مضبوط بنانا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری جمعرات کے روز تین روزہ دورے پر جرمنی روانہ ہو گئے۔
جیو نیوز کے مطابق یہ دورہ جرمن ہم منصب فرینک والٹر سٹاسٹینمیئر کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ ایوان صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سفر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گزشتہ 23 برسوں میں کسی پاکستانی صدر کا جرمنی کا یہ پہلا دورہ ہے۔
اس دورے کے دوران صدر زرداری کی جرمن صدر سٹاسٹینمیئر کے علاوہ اعلیٰ حکومتی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں طے ہیں۔ جیو نیوز نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، بالخصوص معاشی اور تجارتی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان جاری اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا حصہ ہے۔ یہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جس سے دیرینہ تاریخی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
دورے کی اہمیت
جیو نیوز کی جانب سے نقل کیے گئے ایوان صدر کے بیان کے مطابق، اس اعلیٰ سطح کے رابطے سے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔ عام شہریوں اور کاروباری طبقے کے لیے ان دیرینہ تاریخی رشتوں کی مضبوطی دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر معاشی تعاون کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گی۔

