وفاقی دارالحکومت سے ملک بھر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے مالیاتی مشکلات میں گھیرے اس شعبے کو سہارا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے طویل المدتی فنانسنگ حاصل کرنے کے خواہشمند چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے لازمی قرار دی گئی 80 فیصد برآمدی شرط کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ احکامات برآمدی نوعیت کے چھوٹے کاروباروں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بلائے گئے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران دیے۔ اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً 17000 چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے برآمدات کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یکم نومبر کو متعارف کرائے گئے خصوصی سہولت کاری پورٹل پر اب تک 10000 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جس سے اس شعبے کے پُرجوش ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں متعلقہ شعبے کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے اس موقع پر ٹیکسوں کے مسائل، ٹیکس ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن کے مراحل، نقل و حمل کے انتظامات، ادائیگی کے نظام اور فنانسنگ تک رسائی میں پیش آنے والی دیرینہ مشکلات پر کھل کر بات کی۔
ان تمام تحفظات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضابطہ کار کے مراحل کو آسان بنایا جائے، ایکریڈیٹیشن کے معیارات کو بہتر کیا جائے اور لیبارٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی جائے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کاروباری مراکز کے قریب جدید ترین ٹیسٹنگ کی سہولیات قائم کی جائیں تاکہ برآمد کنندگان آسانی سے مطلوبہ سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کسی بھی مالیاتی ادارے کو چھوٹے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے لیے تیار کردہ رعایتی فنانسنگ اسکیموں سے ہٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
پاکستان کے چھوٹے صنعتی حلقوں سے وابستہ عام کاروباری مالکان اور کارکنوں کے لیے یہ اقدامات ان دیرینہ مالیاتی رکاوٹوں کو ہدف بناتے ہیں جو ترقی اور وسعت کی راہ میں دیوار بنی ہوئی تھیں۔ برآمدی حد کی سختی کو ختم کرنے اور بینکوں کی جانب سے رعایتی قرضوں کی اسکیموں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ذریعے، یہ پالیسی اس سرمائے کو ان اداروں تک آسان بنانا چاہتی ہے جو ملکی معیشت کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔

میاں محمد شہباز شریف