عام شہریوں کی روزمرہ نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے جاری کی جانے والی امدادی رقوم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے خلاف حکومت نے گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے مختص امدادی پیکیج کی تقسیم میں کوتاہی یا غفلت برتنے والے پٹرول پمپس کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ جو پٹرول پمپ فیول ریلیف پروگرام کے رجسٹرڈ مستحقین کو معاونت فراہم کرنے میں ناکام رہے، اس کا آپریٹنگ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ حکومتی سبسڈی بغیر کسی دشواری کے اصل حق داروں تک پہنچ سکے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سبسڈی اسکیم کے نفاذ، رجسٹریشن کے اعداد و شمار اور شفافیت کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس فلاحی پروگرام میں مجموعی طور پر 1,55,19,282 افراد کامیابی کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں۔ ان مستحقین میں اکثریت ایسے موٹر سائیکل مالکان کی ہے جن کی تعداد تقریباً 150 لاکھ 60 ہزار ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں والے تقریباً 4 لاکھ 49 ہزار ڈرائیور بھی اس میں شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی کہ اس پروگرام کے تحت اب تک 6,31,53,685 فیول سبسڈی ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 5,94,45,347 ٹوکن شہری کامیابی سے استعمال کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نے اس عمل کی مجموعی پیش رفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹریشن اور ٹوکن کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کو اس اسکیم کی کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
پس منظر
نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اس اجلاس میں امدادی کوششوں کے مالی اور انتظامی امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق 4 نومبر تک اس سبسڈی اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 28.6 ارب روپے کی رقوم تقسیم کی جا چکی ہیں۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کی گئی انتظامی تبدیلیوں نے عوام کی شرکت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان بھر میں مہنگائی کے دور میں روزانہ سفر کرنے والے عام موٹر سائیکل سواروں اور ڈرائیوروں کے لیے مالی مدد کا یہ سلسلہ گھریلو بجٹ کو سنبھالنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ریاست کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا براہ راست ان لاکھوں مسافروں کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے جو اپنے یومیہ سفری اخراجات کے لیے ان سبسڈی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
مقامی حکام کو وزیراعظم کی طرف سے جاری کردہ سخت ہدایات کے علاوہ، ماخذ مواد میں اس حوالے سے مزید کسی آئندہ شیڈول یا قدم کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

میاں محمد شہباز شریف