جب صوبے کا سب سے بڑا منتظم شہریوں سے یہ کہے کہ تشدد کا جواب اسی طرح دیا جائے، تو ریاست کے تحفظ اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔ منڈی بہاؤالدین کی ایک یونیورسٹی میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر کھل کر بات کی۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے متاثرہ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ ایسے حملوں کا اسی انداز میں جواب دیا جائے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صوبائی چیف ایگزیکٹو نے عزم ظاہر کیا کہ مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ ان کی اپنی ہی جماعت سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے خوف کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی حکمرانی مستقل مزاجی اور ایک ہی اصول پر چلنے سے قائم ہوتی ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ملتان میں ایک یتیم نوجوان کے ٹرک کے نیچے کچلے جانے کے دردناک واقعے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ حادثہ اب تک ان کے دل پر نقش ہے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، وزیراعلیٰ کے یہ بیانات صوبے میں پیش آنے والے چند ہائی پروفائل پرتشدد واقعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ان میں ملتان کا ہلاکت خیز واقعہ، لاہور میں موٹر سائیکل سوار خاتون پر تشدد کا معاملہ اور ایک پٹرول پمپ پر پیش آنے والا پرتشدد واقعہ شامل ہے۔ جیو نیوز کی تفصیلات کے مطابق، لاہور کے واقعے میں ایک شخص نے موٹر سائیکل سوار خاتون کا راستہ روکا اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اگرچہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا، لیکن لاہور کی ایک عدالت نے اسے حکم دیا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے رہا کر دیا جائے۔ دوسرے واقعے میں جوبلی ٹاؤن کے ایک پٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر ایک شخص نے ملازم کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

معاملہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے عام شہریوں کے لیے یہ متضاد صورتحال سڑکوں پر سحری تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور عدالتوں کے فیصلوں کے درمیان موجود پیچیدہ حقائق کو بے نقاب کرتی ہے۔ جہاں صوبائی حکومت نے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، وہیں عدالت کی طرف سے حراست میں موجود ملزم کی رہائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومتی بیانات اور قانونی کارروائیوں کے درمیان فرق اب بھی موجود ہے۔