سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد افواہوں اور ایک جعلی نوٹیفکیشن کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن اور محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے واضح کر دیا ہے کہ صوبے بھر میں تمام تعلیمی ادارے پیر کے روز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ جیو نیوز کے مطابق حکام نے اس جعلی نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے والدین اور طلبا سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی گمراہ کن خبروں پر دھیان نہ دیں۔

اس کے برعکس، پڑوسی صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی کے پیش نظر صوبائی سطح پر نہیں بلکہ اضلاع کی سطح پر مخصوص تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں اتوار کو جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے بعد پیر کے روز تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ ضلع ملاکنڈ میں اسکول اور کالجز دو روز کے لیے بند رہیں گے جبکہ لوئر دیر کے حکام نے 12 اور 13 اکتوبر کو تعطیل کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف انرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں اور ملاکنڈ نے پیر کو ہونے والے نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ دوم کے تمام امین پرچے اگلے احکامات تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق پنجاب میں پیدا ہونے والی اس تمام صورتحال کی جڑ وہ جعلی نوٹیفکیشن تھا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلا اور جس میں اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی بند کا جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا۔ دوسری طرف، خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی بندش اور امتحانات کا التوا براہ راست صوبے کے بعض حصوں میں سیکیورٹی کے نئے خدشات کے جواب میں کیا گیا۔

یہ اہم کیوں ہے؟

پاکستان بھر کے والدین، طلبا اور اساتذہ کے لیے یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آن لائن پھیلنے والی متضاد خبروں اور زمینی حقائق کے درمیان توازن رکھنا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف پنجاب کے خاندان اپنے بچوں کے لیے معمول کے اسکول کے دن کی تیاری کر رہے ہیں، وہیں خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع کے باسیوں کو تعلیمی سرگرمیوں اور امتحانات میں اچانک تعطل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔