بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے پانچ بغیر پائلٹ کے ڈرون تباہ کر دیے۔ جیو نیوز کے مطابق سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں مار گرائے گئے، اور اس ناگہانی واقعے میں اللہ کے فضل سے کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کی کوشش کے پیچھے بھارتی پراکسی کا ہاتھ تھا۔ اسی ادارے کی ایک اور تفصیل کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے افغانستان کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے آٹھ ڈرون بھی کامیابی سے مار گرائے تھے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق 2021ء میں افغان طالبان کی حکومت کی واپسی کے بعد سے پاکستان میں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، سرحد پار سے سیکیورٹی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد نے کابل سے بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے، جبکہ افغان حکام اس مؤقف کی تردید کرتے آئے ہیں۔ سرحدی جھڑپوں اور اکتوبر 2025ء کے عارضی فائر وال کے بعد پاکستان نے فروری 2026ء میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا۔ متعدد سفارتی مذاکرات کے باوجود سرحد پار سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے معاملے پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔

اس صورتحال کی اہمیت

ڈرون گرائے جانے کا یہ واقعہ پاکستان کی سرحدوں پر درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور ملک کے فضائی دفاعی نظام کی مستعدی کو ظاہر کرتا ہے۔ سرحدی علاقوں خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کے لیے یہ حالات خطے میں جاری کشیدگی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔