لاہور میں حساس ترین قانون نافذ کرنے والے ادارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہیڈ کوارٹر کی بیرونی دیوار سے ایک نامعلوم نگرانی کرنے والا ڈرون ٹکرا گیا، جس نے فوراً ہی سکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یہ ڈرون جلو موڑ کی سمت سے اس تنصیب کی طرف بڑھا اور دیوار سے ٹکرانے کے بعد زمین پر آ گرا۔
ہیڈ کوارٹر پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے ٹکر کے فوراً بعد اس آلے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ جیو نیوز نے بتایا کہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون کے ساتھ لگے ہوئے کیمرے اور بیٹری لائٹس برآمدگی کے وقت مکمل طور پر فعال حالت میں تھے۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کردہ پولیس بیانات کے مطابق حکام کو شبہ ہے کہ یہ ڈرون نامعلوم افراد کی طرف سے حساس سہولت کے اندرونی حصوں کی ریکی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس سکیورٹی کی خلاف ورزی کے جواب میں سی ٹی ڈی کے سکیورٹی حکام نے قانونی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ہرتھ پورہ پولیس اسٹیشن میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔ حکام نے آپریٹرز کی شناخت کرنے اور مبینہ نگرانی کے پیچھے اصل مقصد کا تعین کرنے کے لیے تمام زاویوں سے ایک جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس واقعے کی اہمیت کیوں ہے
اہم قانون نافذ کرنے والے انفراسٹرکچر کے قریب نامعلوم فضائی آلات سے جڑے سکیورٹی واقعات نے عوامی توجہ تنصیب کے احاطے اور شہری فضائی حدود کی مانیٹرنگ کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ عام شہریوں کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم کمپاؤنڈ میں نگرانی کرنے والے ڈرون کے داخل ہونے کی خبر حساس سرکاری تنصیبات کے ارد گرد جاری سکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتی ہے۔
آگے کیا ہوگا
پولیس اور سکیورٹی حکام ڈرون کے اصل مقام اور ہیڈ کوارٹر کے قریب اسے چلانے کے ذمہ دار افراد کی تلاش کے لیے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

