خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام اہم سکیورٹی مذاکرات کے لیے تہران پہنچ چکے ہیں۔ جیو نیوز اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق اس چار رُکنی بیٹھک میں اہم ترین قیادت باہمی تعاون کے چیلنجز اور علاقائی سلامتی کے امور پر غور کر رہی ہے۔

جیو نیوز نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری علی باقری کانی کے حوالے سے بتایا کہ اس مشاورتی عمل میں سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالین بھی ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کے ساتھ شریک ہیں۔ اگرچہ ایرانی حکام کی جانب سے دن کے اوقات کا تعین نہیں کیا گیا تاہم روئٹرز نے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقاتیں تہران میں علاقائی ہم آہنگی کے موضوع پر ہو رہی ہیں۔

پس منظر

یہ سفارتی سرگرمیاں اگست میں طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے بعد سامنے آئی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق اس سہ فریقی دفاعی معاہدے میں طے پایا ہے کہ کسی بھی رُکن ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا، اور فریقین علاقائی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔

یہ فریم ورک ایک ایسے وسیع تر علاقائی تنازع کے دوران سامنے آیا جو فروری میں جوہری مذاکرات کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا تھا۔ اگرچہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے شدید بمباری تھم گئی تھی، لیکن آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی اب بھی برقرار ہے جہاں ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا کنٹرول ہے جبکہ دوسری طرف امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے۔ جون کے معاہدے کے خاتمے کے بعد سے امریکہ کے ساتھ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، اور روئٹرز کے مطابق اس وسیع تر تنازع میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی شامل ہے۔

یہ اہم کیوں ہے

پاکستان اور خطے کے عام شہریوں کے لیے ان سفارتی پیش رفتوں کے علاقائی استحکام، تجارتی راستوں اور توانائی کی سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ہمسایہ ممالک مکہ معاہدے جیسے کثیر الجہتی فریم ورک کے ذریعے سکیورٹی پالیسیوں پر مشاورت کرتے ہیں، تو ان مذاکرات کے نتائج کشیدگی میں کمی لانے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔