واشنگٹن میں ہونے والی ایک غیر متوقع سفارتی پیش رفت نے عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو ایک بار پھر مرکز نگاہ بنا دیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں جاری تنازع کے خاتمے کا معاہدہ اب زیادہ دور نہیں۔ البتہ الجزیرہ، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کرل دمتریف سے اوول آفس میں ملاقات کے بعد امریکی رہنما نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بات چیت کی تفصیلات تو ظاہر نہیں کی جا سکتیں، مگر جو سمجھوتہ طے پا رہا ہے اس کا دائرہ کار صرف یوکرین تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں پورے یورپ کا سلامتی کا ڈھانچہ شامل ہو سکتا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اس سے پہلے بھی اس مہلک ترین تنازع کے جلد ختم ہونے کی نوید سنا چکے ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی ضرور آئی ہے۔ ذرائع ابلاع کا یہ بھی بتانا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اس روز یوکرین کے وفد سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔

پس منظر

الجزیرہ، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر کی اس ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی میزبانی خاتون اول میلانیہ ٹرمپ نے کی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس تقریب میں روس اور یوکرین دونوں کے نمائندے ایک چھت کے نیچے جمع ہوئے، جس کا مقصد اکتوبر کے مہینے میں جنوبی یوکرین کے شہر اولیشکی میں ہونے والی چھ روزہ عارضی جنگ بندی کے اثرات کو آگے بڑھانا تھا۔ یہ مقامی جنگ بندی 27 اکتوبر سے یکم نومبر تک نافذ رہی تھی، جس کے نتیجے میں محاصرہ شدہ اور روسی قبضے والے اس شہر سے تقریباً 800 شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا تھا اور وہاں خوراک و طبی امداد کی ترسیل ممکن ہو سکی تھی۔

الجزیرہ، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے انکشاف کیا کہ اس تقریب میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں کرل دمتریف کے علاوہ روس کی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراتوا، یوکرین کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما ڈیوڈ آراخامیا اور یوکرین کے پارلیمانی کمشنر برائے انسانی حقوق دمیتری لوبینٹس شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی خاتون اول نے جنگ میں الجھے ہوئے دونوں فریقوں کے نمائندوں کو سفارت کاری کے لیے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس موقع پر میلانیہ ٹرمپ نے دونوں فریقوں کو اپنے اپنے رہنماؤں کے نام خطوط دیے، جبکہ روسی ایلچی کے توسط سے انہیں ایک 11 سالہ بچی کی بنائی ہوئی پینٹنگ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے آرڈر آف پرنسس اولگا سے بھی نوازا گیا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ناظرین کے لیے کسی بھی طویل عرصے سے جاری بین الاقوامی تنازع کے حل کی جانب قدم بڑھانا معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے گہرے اثرات رکھتا ہے۔ یورپ میں جاری اس طویل کشیدگی نے تاریخی طور پر عالمی توانائی کی مارکیٹوں، غذائی تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کی زد میں ترقی پذیر معیشتیں بھی آتی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی نگرانی میں ہونے والی یہ سفارتی پیش رفت، انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندیاں اور اعلیٰ سطح کے رابطے اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ آیا عالمی طاقتیں فعال جنگ سے نکل کر کسی مذاکراتی حل کی طرف بڑھ پاتی ہیں یا نہیں۔