اڈیالہ جیل کی بھاری سلاخوں کے پیچھے ایک اہم طبی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک معالج نے سابق وزیراعظم عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ جیو نیوز کے مطابق یہ معائنہ 10 اگست کو عمل میں آیا، جس نے قید میں موجود سیاسی رہنما کی صحت کے حوالے سے نئی توجہ مبذول کرائی ہے۔ جیل کے اندر ہونے والے اس معائنے کے بعد سے ان کے چاہنے والے اور مبصرین صحت سے متعلقہ اُمور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

طبی بورڈ کی سفارشات

اس معائنے اور جانچ پڑتال کے بعد ایک تشکیل شدہ میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم کے روزمرہ کے معمولات کے حوالے سے چند اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق طبی پینل نے جسمانی توازن اور صحت بحال رکھنے کے لیے روزانہ باقاعدگی سے سیر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کے علاوہ بورڈ نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ انہیں اہل خانہ کے ساتھ زیادہ کثرت سے ملاقاتیں کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان تجاویز کا مقصد قید کے دوران ان کی جسمانی اور جذباتی دونوں طرح کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔

بلڈ پریشر اور پارٹی کے تحفظات

معائنے کے دوران ان کی صحت کی جانچ کے لیے طبی پیمائشیں بھی کی گئیں۔ جیو نیوز کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 10 اگست کو ان کا بلڈ پریشر 140/80 ریکارڈ کیا گیا۔

ان تمام پیش رفت کے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ان کی صحت اور طبی سہولیات کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور قانونی و انتظامی کارروائیوں کے ساتھ ان کی صحت و سلامتی کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔