الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی جانے والی عسکری کارروائی فی الحال کسی قطعی انجام کے بجائے ایک تناؤ سے بھرے وقفے میں داخل ہو چکی ہے۔ بڑی لڑائی میں عارضی تعطل ہے اور سفارت کاری بھی رکی ہوئی ہے، جب کہ دونوں اطراف سے آئندہ کی کشیدگی کی تیاریاں جاری ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اس تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران میں 'بڑی جنگی کارروائیوں' کا آغاز کر دیا ہے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ جنگ کے ابتدائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر جاں بحق ہو گئے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران 70 سال سے زائد عرصے سے نشانے پر رہا ہے، جس میں 1953 میں سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ایجنسی کی جانب سے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹنے کا واقعہ بھی شامل ہے جنہوں نے ایرانی تیل کو قومی تحویل میں لیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے شاہ کو مسند اقتدار پر بٹھایا اور 1979 کے ایرانی انقلاب تک ان کی پولیس ریاست کی پشت پناہی کی۔
الجزیرہ نے مزید بتایا کہ امریکہ نے 1980 کی دہائی میں صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کی، جس کے بعد چار دہائیوں تک معاشی جنگ، خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں 2018 میں 2015 کے جوہری معاہدے کو ختم کیا، جون 2025 میں ایران کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی، اور رواں سال فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر کھلی جنگ کا آغاز کر دیا۔
اسرائیلی پالیسی کے حوالے سے الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی راہ کا انتخاب کیا ہے، اور وہ اتمار بن گویر اور بتسلیل سموچ سمیت 'قومی مذہبی' اتحادیوں کے ساتھ انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں۔ الجزیرہ نے ذکر کیا کہ 2002 کے عرب امن اقدام میں 1967 کی سرحدوں پر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل کو مکمل سفارتی تعلقات کی پیشکش کی گئی تھی، جو رپورٹ کے مطابق اب بھی برقرار ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے قارئین کے لیے مشرق وسطیٰ کی صورتحال گہرے اسٹریٹجک، معاشی اور انسانی اثرات رکھتی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشیدگی جنوب مغربی ایشیا کے علاقائی استحکام، عالمی توانائی کی سپلائی، تارکین وطن کمیونٹیز اور سفارتی صف بندیوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق بڑی جنگی کارروائیاں رکی ہوئی ہیں، سفارت کاری جام ہے، اور دونوں فریق تصادم کے اگلے مرحلے کی تیاریوں میں جٹے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ
بنیامین نیتنیاہو