اہم نکات
- بزنس ریکارڈر کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہیں اور مفادات کے ٹکراؤ سے گریز کریں۔
- یہ اجلاس گزشتہ ہفتے، یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کے اکتوبر کے وسط میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد منعقد ہوا، جن پر رسائی فروخت کرنے کے الزامات تھے۔
- روبیو نے واضح کیا کہ غیر اخلاقی رویے پر تعلقات سے بالاتر ہو کر فوری برطرفی کی جائے گی، اور اہم فیصلوں کے لیے ان کی یا ڈپٹی سیکرٹری کرسٹوفر لینڈو کی منظوری لازمی ہوگی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے محکمہ خارجہ میں انتظامی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اعلیٰ افسران کو مفادات کے ٹکراؤ اور خود ساختہ پالیسی اقدامات سے سختی سے منع کر دیا ہے، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا۔ ریپبلکن پارٹی کو حالیہ انتخابی شکستوں کا سامنا کرنے سے پہلے ہونے والے اس اندرونی اجلاس کا مقصد لگ بھگ دو درجن اسسٹنٹ سیکرٹریز آف اسٹیٹ کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
اہم تفصیلات
بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ بند کمرہ اجلاس یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کے اکتوبر کے وسط میں سامنے آنے والے ہائی پروفائل استعفیٰ کے بعد ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ گلفائل نے مالی فائدے، تحائف اور مراعات کے بدلے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام تک رسائی فروخت کی۔ بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ گلفائل نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بیان دیا تھا کہ وہ اپنے دفاع میں کھڑی ہوں گی۔
اجلاس کے دوران چار ایسے افراد نے بزنس ریکارڈر کو بتایا جو معاملے سے آگاہ ہیں کہ مارکو روبیو نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی غیر اخلاقی حرکت کا نتیجہ فوری برطرفی کی صورت میں نکلے گا، چاہے کسی کے ذاتی تعلقات کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔ اس کے علاوہ ذرائع نے اشارہ دیا کہ روبیو کا کہنا تھا کہ بہت سے افسران خود سر ہو کر اپنے ایجنڈے آگے بڑھا رہے ہیں، لہذا اب طے کیا گیا ہے کہ ہر بڑے فیصلے کے لیے خود وزیرِ خارجہ یا ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ کرسٹوفر لینڈو کی باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے اس ملاقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے اور اس سے قبل اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔
پس منظر اور اثرات
بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ اندرونی ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ریپبلکن پارٹی کے بڑے رہنما حالیہ انتخابی شکستوں کے بعد غیر مقبول ہوتی ہوئی ٹرمپ انتظامیہ سے خود کو دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
خلاصہ اور آئندہ کا لائحہ عمل
وزارتِ خارجہ نے اس اندرونی ہدایت نامے پر مزید کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ہے، جبکہ چار گمنام ذرائع نے انتظامیہ کی جانب سے اخلاقی ضابطوں کی پابندی اور مرکزیت پر مبنی فیصلہ سازی کی طرف واپسی کے عزم کو واضح کیا ہے۔

مارکو روبیو
Kimberly Guilfoyle
Christopher Landau