ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکی فوج کے 81 طیارے یا تو تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے زیرِ مطالعہ آنے والی کانگریس کی ایک دستاویز میں یہ چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جنہیں ایک غیر جانبدار تحقیقی ادارے نے مرتب کیا ہے۔ اس دستاویز سے عسکری مہم کے دوران اٹھنے والے بھاری اخراجات اور آپریشنل نقصان کا اندازہ ہوتا ہے۔
جنگی نقصانات اور سازوسامان کا تخمینہ
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، غیر جانبدار تحقیقی ادارے کی جاری کردہ تفصیلات امریکی فوج کو پہنچنے والے شدید سازوسامانی دھچکے کو بے نقاب کرتی ہیں۔ کانگریس کی اس دستاویز میں درج کل نقصانات میں 45 ڈرون اور جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ اس انکشاف سے جنگ کے دوران لاجسٹکس اور مادی اثرات کا ایک نادر منظر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ عسکری کارروائیوں میں اکثر فوری اسٹریٹجک نتائج پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن اس تفصیلی حساب کتاب نے مہم کے دوران ہونے والے سازوسامان کے بھاری نقصانات کو اجاگر کیا ہے۔
آپریشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات
طیاروں کے ان نقصانات کا انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون ساز اور تجزیہ کار اس مہم کے وسیع تر مالی اور آپریشنل اخراجات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کانگریس کی دستاویز اس بات پر زور دیتی ہے کہ اخراجات ابتدائی تعیناتی سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں، جن میں قیمتی ایوی ایشن اثاثوں کی تبدیلی اور مرمت بھی شامل ہے۔ جیسا کہ غیر جانبدار تحقیقی ادارے کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، یہ اعداد و شمار ایران کے ساتھ تنازع میں خرچ ہونے والے وسائل کا ایک واضح پیمانہ فراہم کرتے ہیں۔ کانگریس کے نگراں اداروں کی طرف سے مزید جانچ پڑتال کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ اس آپریشن کے اثرات کے مزید جامع جائزے عوام کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔
