وینزویلا کے عوام تقریباً 2 سال کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے سیاسی اصلاحات اور آزادانہ انتخابات کے حق میں زبردست مظاہرے کیے ہیں۔
الجزیرہ نے رائٹرز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ احتجاج دارالحکومت کاراکس کے علاوہ ویلنسیا، ماراکے، سان کرسٹوبال اور ماراکائبو سمیت کئی اہم شہروں میں منعقد ہوئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان مظاہروں کا اہتمام وینزویلا کی اپوزیشن تحریک وینتے وینزویلا نے کیا تھا جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کر رہی ہیں۔ مظاہرے میں شریک 18 سالہ طالبہ لیوسمیری ہرنینڈز نے شدید معاشی مشکلات کے اس دور میں تبدیلی کی امید کا اظہار کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، جنوری میں ایک امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور قید کے بعد وینزویلا کی سیاسی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ اس کے بعد سے حکمران جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا سے تعلق رکھنے والی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز وائٹ ہاؤس کی حمایت کے ساتھ ملک چلا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عبوری صدر روڈریگز دونوں یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کرائے جائیں گے، تاہم تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب، 2024 کے متنازع انتخابات کے بعد سے تقریباً ایک سال سے ملک سے باہر مقیم اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کا کہنا ہے کہ جولائی 2027 تک انتخابات کا انعقاد لازمی ہے۔ الجزیرہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت ماضی میں مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا استعمال کرتی رہی ہے، لیکن جمعرات کو ہونے والے ان مظاہروں کے دوران حکومتی فورسز کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔
اس پیشرفت کی اہمیت
عالمی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین اور بین الاقوامی قارئین کے لیے وینزویلا کے یہ واقعات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ صورتحال قیادت میں اچانک تبدیلی اور ملکی وسائل میں بیرونی مداخلت کے بعد سیاسی منتقلی اور جمہوری اصلاحات کے لیے عوامی مطالبات کو واضح کرتی ہے۔

