اہم نکات
- الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثی ذرائع نے فضائی حملوں میں کم از کم 25 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
- اس کے علاوہ 30 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔
- صعدہ گورنریٹ میں مواصلاتی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے 9 الگ الگ حملے کیے گئے۔
یمن میں ہونے والے شدید فضائی حملوں نے ایک بار پھر خطے کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جہاں الجزیرہ کے مطابق کم از کم 25 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔ حوثی حلقوں نے ان کارروائیوں کا ذمہ دار سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کو ٹھہرایا ہے، جن میں بالخصوص مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
اہم تفصیلات
الجزیرہ نے بتایا ہے کہ حوثی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 30 افراد زخمی حالت میں اسپتالوں یا طبی امداد کے منتظر ہیں۔ حوثی ترجمانوں نے مزید واضح کیا کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف صعدہ گورنریٹ میں موجود مواصلاتی نیٹ ورکس تھے، جن پر 9 مختلف بمباری کی گئیں۔
پس منظر اور اثرات
یہ حالیہ پرتشدد واقعات یمن کے صعدہ گورنریٹ میں پیش آئے، جو طویل عرصے سے جاری تنازع کا ایک اور المناک باب ہیں۔ مواصلاتی نیٹ ورکس کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ خطے کی اس جاری جنگ میں شہری بنیادی ڈھانچے کو کس طرح مسلسل شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
صورتحال اور آئندہ کا منظر نامہ
الجزیرہ کی مانیٹرنگ کے مطابق سامنے آنے والے یہ جانی نقصان یمن کے تنازع کی سنگین انسانی قیمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تباہ شدہ مواصلاتی نظام کی بحالی یا اس پر کسی باضابطہ ردعمل کے حوالے سے مزید تفصیلات آنا تاحال باقی ہیں۔

