اہم نکات
- مقامی ذرائع کے مطابق نومبر کے آغاز سے اب تک 3,300 سے زائد افراد لگ بھگ 30 کشتیوں پر سوار ہو کر ایل ہییرو پہنچے، جس پر مقامی انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔
- رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق علاقائی رہنماؤں نے اس صورتحال کو مکمل طور پر ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے، اور انتباہ کیا ہے کہ یہ تعداد 2024 کی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ رہی ہے۔
- اے ایف پی کے مطابق حالیہ ہفتوں میں جزائر کے قریب سمندر میں کم از کم 9 تارکینِ وطن یا پناہ گزین لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جن میں اس ہفتے ایک کشتی سے ملنے والی دو لاشیں بھی شامل ہیں۔
الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق ہسپانوی جزیرے ایل ہییرو کے حکام نے مہاجرین اور تارکینِ وطن کی آمد میں اچانک تیز اضافے کے بعد باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور دارالحکومت میڈرڈ میں مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔
اہم تفصیلات
ایل ہییرو کی گورننگ کونسل کے سربراہ الپیڈیو آرماس نے ہسپانوی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ حکام اس اچانک اضافے پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے یہ ہنگامی لائحہ عمل ناگزیر تھا۔ مقامی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق یکم نومبر سے اب تک تقریباً 30 کشتیوں کے ذریعے 3,300 سے زائد افراد اس جزیرے پر پہنچ چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق کینری جزائر کے علاقائی رہنما فرنینڈو کلاویجو نے جاری صورتحال کو "مکمل طور پر ناقابلِ برداشت" قرار دیا۔ کلاویجو نے بتایا کہ سمندری امدادی سروسز نے اکیلے نومبر کے پہلے 6 دنوں کے دوران ساحل کے قریب سے 3,261 افراد کو ریسکیو کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مہاجرین کے امور میں مدد کے لیے بسوں کے رخ موڑ دیے گئے ہیں اور قریبی جزائر سے طبی عملے کو بھی یہاں طلب کر لیا گیا ہے۔
اس سمندری سفر کے دوران المناک حادثات بھی پیش آئے ہیں۔ اے ایف پی نے زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں جزائر کے قریب سمندر میں کم از کم 9 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس میں رواں ہفتے ایک کشتی سے برآمد ہونے والی دو لاشیں اور پانچ ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سفر کے دوران ہی لقمۂ اجل بن گئے تھے۔
پس منظر اور اثرات
مغرب افریقہ کو کینری جزائر سے ملانے والا بحرِ اوقیانوس کا یہ روٹ دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ 2024 میں یہاں مہاجرین کی آمد 46,000 سے تجاوز کر کے ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم نگرانی سخت کیے جانے اور ٹرانزٹ ممالک کے ساتھ تعاون کے باعث بعد میں اس تعداد میں کمی واقع ہوئی۔ وزارتِ داخلہ ہسپانیہ نے رپورٹ کیا کہ جنوری سے اکتوبر کے دوران سمندر کے راستے 13,327 غیر قانونی تارکینِ وطن پہنچے، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 5.5 فیصد کم ہے۔ تاہم سینیگال، موریتانیہ اور مراکش کے ساحلوں پر گشت بڑھانے کے نتیجے میں اب روانگی کے مقامات مزید جنوب کی طرف گیمبیا، گنی بساؤ اور گنی منتقل ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے سفر مزید طویل اور خطرناک ہو گیا ہے۔
خلاصہ اور آئندہ کا لائحہ عمل
مقامی حکام مہاجرین کے لیے عارضی رہائش کے انتظامات کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ جزیرے پر ہسپتالوں کے انتظامات پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، علاقائی اور قومی حکام مسلسل آنے والے مہاجرین کو سنبھالنے اور آئندہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
