اہم نکات
- بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، پی ایچ ڈی ای سی اور جی پی آئی کے حکام نے 29 اکتوبر 2026 کو بلوچستان کی ہارٹیکلچر پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
- اس منصوبے میں بلوچستان کے 20 اضلاع میں 22 مقامات پر کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ کی سہولیات شامل ہیں۔
- منصوبے کے تحت آٹھ مقامات آنے والے مہینوں میں فعال ہو جائیں گے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کی تازہ زرعی پیداوار کی برآمدات بڑھانے کے لیے زرعی حکام کراچی میں سرجوڑ کر بیٹھے، جہاں خطے کے زرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم تفصیلات
بزنس ریکارڈر کے مطابق، پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد نصیر نے 29 اکتوبر 2026 کو گرین پاکستان انیشیٹو کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران جی پی آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر آصف خان نے شرکاء کو بلوچستان کے 20 اضلاع میں پھیلے ہوئے 22 مقامات پر پروسیسنگ اور اسٹوریج کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔
اس منصوبے کا ہدف کھجور، سیب، ٹماٹر، پیاز، انار، انگور، آلو بخارے اور آڑو سمیت اہم پھل اور سبزیاں ہیں۔ بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ ہر سائٹ کو 1,000 ٹن کولڈ اسٹوریج کی گنجائش اور ایک سے پانچ ٹن فی گھنٹہ پروسیسنگ کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ آٹھ مقامات کے آنے والے مہینوں میں کھلنے کی توقع ہے۔
پس منظر اور اثرات
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، اس بنیادی ڈھانچے کا مقصد ہارٹیکلچر کی ویلیو چین کو مضبوط بنانا اور شفاف تجارتی پیداوار کو ممکن بنانا ہے۔ محمد نصیر نے تجویز دی کہ برآمد کنندگان اور تجارتی مشنز کے تعاون سے بین الاقوامی منڈیوں کے لیے کھجور کے سرپ, کھجور کے پیسٹ, خشک پیاز, سیب کے سرکے اور ٹماٹر کے گودے جیسی مصنوعات کو ترجیح دی جائے، جسے آصف خان نے سراہا۔
خلاصہ اور اگلا مرحلہ
بزنس ریکارڈر کے مطابق، گرین پاکستان انیشیٹو 23 سے 26 نومبر تک کراچی میں منعقد ہونے والی آئندہ فوڈ ایگ نمائش میں اپنی ویلیو ایڈڈ اشیاء کی نمائش کرے گا۔ اس شرکت کا مقصد پروڈکٹ ڈویلپرز کو شامل کرنا اور بین الاقوامی خریداروں کے سامنے پاکستانی پیداوار کو پیش کرنا ہے۔
