اہم نکات
- یو این ویمن پاکستان نے دو سالہ ویمنز امپاورمنٹ پرنسپلز (WEPs) ایوارڈز کی تقریب میں 17 فاتحین اور رنرز اپ کو اعزازات سے نوازا۔
- ملک بھر کی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) سمیت مجموعی طور پر 52 درخواست گزاروں میں سے ان فاتحین کا انتخاب کیا گیا۔
- اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں خواتین کے لیے کاروباری قیادت کے مساوی مواقع پیدا کرنا اور معاشی راہیں کھولنا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں منعقدہ دو سالہ ویمنز امپاورمنٹ پرنسپلز (WEPs) ایوارڈز کی تقریب میں ان 17 اداروں اور شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے کاروباری شعبے میں صنفی برابری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔
اہم تفصیلات
بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ ایوارڈز کی اس تقریب کے لیے ملک بھر سے 52 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں بڑی کارپوریٹ تنظیموں کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے بھی شامل تھے۔ اس تقریب کا اہتمام یو این ویمن پاکستان نے ڈیرین اور سورتی کے تعاون سے کیا جبکہ جیو (GEO) اس تقریب کا میڈیا پارٹنر تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ویمن پاکستان کے کنٹری نمائندہ جمشید ایم قاضی نے جامع تجارت کے وسیع تر اثرات پر روشنی ڈالی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے کہا: "کاروباری کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ کمپنیاں کیا تیار کرتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کن لوگوں کی زندگیاں بدلتی ہیں اور کن کے مستقبل کو ممکن بناتی ہیں۔"
بزنس ریکارڈر کے مطابق، تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک صوبائی وزیر برائے بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بھی خواتین کی معاشی شمولیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پس منظر اور اثرات
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، ڈبلیو ای پز (WEPs) ایوارڈز کا مقصد ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو جامع قیادت کو پروان چڑھائیں، کاروبار میں صنفی حساسیت کو فروغ دیں اور پورے پاکستان میں خواتین کے لیے معاشی مواقع میں وسعت لائیں۔ جمشید ایم قاضی کا کہنا تھا کہ خواتین کو بغیر کسی رکاوٹ کے قیادت سنبھالنے اور مساوی بنیادوں پر منڈیوں تک رسائی دینے سے ادارے مجموعی معیشت کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، جس سے کاغذی وعدے روزمرہ زندگی کی عملی تبدیلیوں میں بدل جاتے ہیں۔
خلاصہ اور آگے کا لائحہ عمل
یہ دو سالہ تقریب کارپوریٹ دنیا میں صنفی برابری کے لیے خدمات انجام دینے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور دیگر کاروباری برادری کو عملی اقدامات کے لیے متحرک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اعزاز پانے والے ان اداروں کے اقدامات کے مزید نتائج آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔

