ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطاروں میں کھڑے شہریوں کے لیے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے جس سے عام آدمی کی جیب پر پڑنے والا بوجھ کسی حد تک کم ہوگا۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی قیمتیں 10 نومبر تک نافذ العمل رہیں گی، جس سے صارفین کو عارضی طور پر سستا ایندھن میسر آئے گا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6.59 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 346 روپے مقرر ہوئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 4.25 روپے سستا ہو کر 378 روپے فی لیٹر کی سطح پر آ گیا ہے، جو اس سے قبل 382.25 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے تاکہ عالمی منڈی کے اثرات کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔
عالمی مارکیٹ کے اثرات اور قیمتوں کا تعین
بزنس ریکارڈر کی تفصیلات کے مطابق قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں ہونے والی کمی اور 'پلاٹس' (Platts) کی رپورٹ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 105.94 ڈالر سے گر کر 101.92 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، یعنی فی بیرل 4.02 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کے عالمی نرخ بھی 106.90 ڈالر سے کم ہو کر 104.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ان عالمی تبدیلیوں کے نتیجے میں ریفائنری سے نکلنے والے تیل (ایکس ریفائنری) کی لاگت میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کم ہو کر 249.92 روپے اور ڈیزل کی 269.86 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے عائد کردہ لیوی اور دیگر اخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اب بھی برقرار ہے، جبکہ ڈیلرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع بھی سابقہ سطح پر موجود ہے۔
عام آدمی کے لیے اہمیت
گھریلو بجٹ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان شہریوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں معمولی کمی بھی ایک بڑی راحت ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ فکسڈ ٹیکس اور دیگر اخراجات اب بھی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ ہیں، لیکن عالمی سطح پر قیمتیں گرنے سے ملنے والا یہ ریلیف مہنگائی کے اس دور میں شہریوں کے لیے کسی حد تک مالی دباؤ میں کمی کا باعث بنے گا۔

