قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونہ لگانے والے ایک بڑے مالیاتی فراڈ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی پر صوبائی قیادت کی طرف سے پرزور ستائش سامنے آئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اس عزم اور فی کس اقدامات کی تعریف کی ہے جو عدالتی فیس اسٹامپ کی منظم جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف اٹھائے گئے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق اس غیر قانونی دھندے نے ریاست کو شدید مالی دھچکا پہنچایا اور قومی خزانے کو تقریبا 1.5 ارب روپے سے محروم کیا۔ اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سرکاری وسائل لوٹنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیا، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے بتایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی حکام اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان یہ مشترکہ لائحہ عمل نظامی جرائم اور بدعنوانی کے خاتمے کی جانب ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
پس منظر
اس کریک ڈاؤن کی تفصیلات عدالتی فیس کے نظام میں سرگرم جعل ساز گروہ کے خلاف جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے سامنے آئیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق جعلی عدالتی ٹکٹوں کے اس کاروبار نے جہاں ایک طرف غیر قانونی دولت کے انبار لگائے وہیں دوسری طرف عوامی فنڈز کو بھی براہ راست نقصان پہنچایا۔ لاہور ہائی کورٹ کی قیادت کی مداخلت خاص طور پر اس مالیاتی جرم کے پیچھے چھپے نیٹ ورکس پر مرکوز تھی۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے؟
اس پیمانے کی مالی نقب زنی براہ راست عوامی وسائل اور انتظامی امور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈیڑھ ارب روپے کے اس اسکینڈل کا بے نقاب ہونا ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں موجود خامیوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عدلیہ اور حکومتی انتظامیہ کے درمیان یہ تعاون قومی سرمائے کو منظم فراڈ سے بچانے کے لیے جاری ادارہ جاتی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

مریم نواز