ماحولیاتی دباؤ اور زرعی زمینوں کو درپیش چیلنجز کے درمیان کارپوریٹ سطح پر پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانے کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں منعقدہ 29 ویں پائیدار ترقی کی کانفرنس اور سسٹین ایبلٹی انویسٹمنٹ ایکسپو کے دوران نیسلے پاکستان کو ماحولیاتی بہتری اور سرکولیرٹی کے فروغ پر دو اعزازات دیے گئے۔

بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ یہ ایوارڈز کمپنی کی جانب سے خوراک کے نظام کو بہتر بنانے اور کاروباری سلسلے میں پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کی کوششوں کا اعتراف ہیں۔ اس کانفرنس کے ایک اہم سیشن کی میزبانی بھی نیسلے پاکستان نے مشترکہ طور پر کی، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر زراعت کی بہتری اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افتتاحی بحث کے دوران نیسلے پاکستان کے ہیڈ آف ٹیکنیکل فیصل ندیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا، "کاشت کے قابل زمین پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور مٹی کی صحت میں کمی کے پیش نظر، ریجنریٹو زراعت کی طرف منتقلی کی ضرورت پہلے کبھی اتنی شدید نہیں تھی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کسان برادری کے ساتھ مل کر پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی پائیداری کو بہتر بنا کر زمین کی زرخیزی کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کی تفصیلات کے مطابق، یہ اعزازات اسلام آباد میں ہونے والی 29 ویں پائیدار ترقی کی کانفرنس اور سسٹین ایبلٹی انویسٹمنٹ ایکسپو کے موقع پر دیے گئے۔ اس تقریب میں زرعی چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کیا گیا۔

اس کی اہمیت

عام قارئین کے لیے یہ مباحث اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زراعت کو درپیش دباؤ، زمین کے معیار میں کمی اور خوراک کے تحفظ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی اور سپلائی چین میں کیا تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس میں یہ امور زیرِ بحث رہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاشی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود کمزور طبقوں تک خوراک کی رسائی کو یقینی بنانا انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے، جس کے لیے مقامی برادریوں کے اشتراک اور ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔