اہم نکات
- بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت صرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدی اداروں (SMEs) کے لیے 300 ارب روپے مختص کر دیے ہیں۔
- مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اعلان کیا ہے کہ یہ رقم 'پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک' (Pak EXIM) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
- اس اقدام کا مقصد کاروباری لاگت میں کمی لانا ہے، جس کے ساتھ وفاقی بجٹ میں ٹیکس ریلیف کی سہولت بھی دی جائے گی۔
ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ حکومت نے برآمدات کے شعبے کو سہارا دینے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی آسان بنانے کے لیے 300 ارب روپے کے بھاری فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اس اقدام کا مقصد برآمدی فرموں کو درپیش مالی مشکلات کو دور کرنا اور ان کے روزمرہ اخراجات میں کمی لانا ہے۔
منصوبے کی اہم تفصیلات
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختص کی گئی 300 ارب روپے کی یہ خطیر رقم، جو کہ تقریباً 1.1 ارب ڈالر بنتی ہے، اب خصوصی طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (SMEs) کے لیے دستیاب ہوگی۔ یہ فنڈز 'پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک' (پاک ایگزیم) کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے قبل یہ فنڈز قرض لینے والے مختلف دیگر زمروں کے لیے بھی استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اب انہیں مکمل طور پر اسی شعبے کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 'پاک ایگزیم' نے تمام متعلقہ بینکوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ان فنڈز کی بروقت اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، اس مالیاتی سہولت کے ساتھ ساتھ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمدی شعبے کے لیے ٹیکسوں میں کمی اور سپر ٹیکس میں ریلیف جیسے اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔
معیشت پر اثرات اور پس منظر
یہ پالیسی حکومت کے اس وسیع ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی مدد فراہم کر کے ملک کی برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، سرمائے تک آسان رسائی سے یہ ادارے نہ صرف بین الاقوامی آرڈرز کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں گے بلکہ اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔
مستقبل کی حکمت عملی
اس نئے منصوبے میں 'پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک' کو مرکزی کردار دیا گیا ہے تاکہ چھوٹے برآمد کنندگان کی بھرپور پشت پناہی کی جا سکے۔ اب یہ ان بینکوں اور مالیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے جن کے ذریعے یہ رقم تقسیم ہونی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ سہولت صرف اور صرف حقدار کاروباری اداروں تک پہنچے تاکہ ملکی معیشت کو اس کا اصل فائدہ مل سکے۔
