Key points

  • بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، لاہور میں پانچ روز کے دوران 21 لاکھ 53 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
  • مہم کے دوران نشاندہی شدہ علاقوں میں 14 لاکھ 99 ہزار 695 گھروں کا احاطہ کیا گیا۔
  • ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد علی اعجاز نے آپریشنل امور کا جائزہ لینے اور فیلڈ مانیٹرنگ کی ہدایات جاری کرنے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے انسدادِ پولیو مہم کے ابتدائی پانچ دنوں کے دوران صوبائی دارالحکومت میں 21 لاکھ 53 ہزار 20 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور 14 لاکھ 99 ہزار 695 گھروں تک رسائی حاصل کی، یہ بات بزنس ریکارڈر کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔ ان اعداد و شمار کا انکشاف ہفتے کے روز جاری مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کے دوران ہوا۔

اہم تفصیلات

بزنس ریکارڈر کے مطابق، اس جائزہ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد علی اعجاز نے کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز عبداللہ خان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر آصف ارباب خان، بین الاقوامی مبصرین، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پانچ سال تک کی عمر کے ہر اہل بچے تک سو فیصد رسائی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے نوزائیدہ بچوں تک پہنچنے اور موثر آگاہی مہم کے ذریعے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کے مسائل کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں متحرک رہیں، کارکردگی کی کڑی نگرانی کریں اور کسی بھی عملی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کریں۔

پس منظر اور اہمیت

پاکستان میں انسدادِ پولیو مہمات صحت عامہ کی ایک انتہائی اہم ترجیح کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے لیے کمزور طبقات تک رسائی کے خاطر مسلسل انتظامی پشت پناہی اور گراؤنڈ لیول پر مانیٹرنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ مہم کی مکمل کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل اور انتظامی تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

خلاصہ اور اگلا مرحلہ

پانچ روزہ کارکردگی کے اعداد و شمار شہری علاقوں میں مؤثر رسائی کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم فیلڈ ٹیمیں تاحال انکاری والدین کو راضی کرنے اور نوزائیدہ بچوں کی ویکسینیشن کے ہدف پر کام کر رہی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے نگرانی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مہم کے حتمی اعداد و شمار اور جاری رسائی کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔