جب کروڑوں یونٹس غیر قانونی تاروں کی نذر ہو جائیں، تو اس کا سارا بوجھ آخرکار ان دیانت دار صارفین پر پڑتا ہے جو اپنے گھروں کے چراغ روشن رکھنے کے لیے تپتی دھوپ اور مہنگائی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی لیسکو نے اکتوبر 2026ء کے دوران اپنے دائرہ کار میں بجلی چوری کے 1,428 الگ الگ واقعات کا پردہ فاش کیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس غیر قانونی سرگرمی میں کل 1,932,870 بجلی کے یونٹس چوری کیے گئے جن کی مالیت 116.19 ملین روپے بنتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی 1,418 کیسز گھریلو کنکشنز سے متعلق تھے، جبکہ باقی ماندہ میں 6 زرعی، 3 صنعتی اور ایک تجارتی کنکشن شامل تھا۔ ادارے کی ٹیموں نے اس ماہ کے دوران کارروائی کرتے ہوئے 9.98 ملین روپے کی وصولی بھی کی ہے۔

پس منظر

بجلی کی چوری توانائی کے شعبے کے لیے ایک ایسا دیرینہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے ادارے مسلسل برسرپیکار ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوششوں کے تحت لیسکو نے ملزمان کے خلاف 1,331 مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔ حکام نے اس دوران 545 ایف آئی آر درج کیں اور 5 ملزمان کو حراست میں لیا۔ جغرافیائی لحاظ سے مشرقی لاہور میں چوری کے سب سے زیادہ یعنی 778 واقعات سامنے آئے، جہاں جمع کردہ 684 درخواستوں پر 336 مقدمات درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر علاقوں میں اوکاڑ میں 237، وسطی لاہور میں 123، شمالی لاہور میں 97، شیخوپورہ میں 95، قصور میں 39، ننکانہ صاحب میں 38 اور جنوبی لاہور میں 21 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

توانائی کی یہ چوری براہ راست ملکی معیشت اور اس نظام کو نقصان پہنچاتی ہے جو قانون کے دائرے میں رہنے والے صارفین کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر رمضان بٹ نے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ انسدادِ چوری کی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے اور بغیر کسی امتیاز کے کارروائی جاری رکھی جائے۔ اس کے باوجود پکڑے جانے والے کیسز کی بھاری تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری اور دیہی دونوں حلقوں میں بجلی کی غیر قانونی کھپت پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔