ملک کے توانائی کے شعبے سے ایک بڑی کاروباری خبر سامنے آئی ہے جہاں گیس فراہم کرنے والے ایک اہم ادارے نے مالیاتی کارکردگی کے نئے سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے مالی سال 2025-26 کے دوران لیوی اور انکم ٹیکس سے قبل اب تک کا سب سے زیادہ 34,656 ملین روپے منافع حاصل کیا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تازہ ترین قبل از ٹیکس آمدنی میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 42 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جب یہ منافع 24,446 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ لاہور میں جمعرات 5 نومبر 2026 کو ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں سالانہ مالیاتی گوشواروں کی منظوری دی گئی اور حصص یافتگان کی توثیق سے مشروط 3 روپے فی حصص یعنی 30 فیصد فائنل کیش ڈیویڈنڈ کی سفارش کی گئی۔

اس کے علاوہ، بزنس ریکارڈر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ٹیکس کے بعد منافع 14,809 ملین روپے رہا جس سے فی حصص آمدنی (EPS) 23.35 روپے بنتی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں بعد از ٹیکس منافع 14,592 ملین روپے اور فی حصص آمدنی 23.01 روپے تھی۔

پس منظر

منافع میں اس نمایاں اضافے کی بڑی وجہ انتظامی اور عملی بہتری کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ادارہ گیس کے ضیاع (UFG) کو کم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس مد میں 1,672 ملین مکعب فٹ (MMCF) کی کمی لائی گئی۔ اس طرح سال کے دوران گیس کے نقصانات 29,520 MMCF سے کم ہو کر 27,848 MMCF رہ گئے۔ بورڈ نے انتظامی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وسائل کے بہتر استعمال پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اس خبر کی اہمیت کیا ہے

عام شہریوں اور کاروباری حلقوں کے لیے یوٹیلیٹی کمپنیوں کی مالی حالت کا مضبوط ہونا اس بات کی علامت ہے کہ قومی بنیادی ڈھانچے کا انتظام بہتر ہو رہا ہے۔ گیس کے رساؤ اور سسٹم کے نقصانات میں کمی کا مطلب قومی توانائی کے نیٹ ورک میں وسائل کا بہتر تحفظ ہے، جبکہ منافع کی تقسیم سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق حصص یافتگان 27 نومبر 2026 کو ادارے کے ہیڈ آفس میں ہونے والے سالانہ عام اجلاس (AGM) کے دوران مالیاتی گوشواروں، مجوزہ نقد منافع اور دیگر کاروباری امور کی باقاعدہ منظوری دیں گے۔