ملک بھر کے موٹر گاڑی چلانے والوں اور عام مسافروں کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، مسلسل قیمتوں میں کمی کے بعد اب ایندھن کے نرخ نیچے کی طرف آئے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ سیکٹر اور روزمرہ سفر کرنے والوں کو بڑی راحت ملی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت پٹرول کی قیمت میں 6.59 روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 346 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4.25 روپے کی کمی ہوئی ہے اور یہ 378 روپے فی لیٹر پر آ گیا ہے۔

پس منظر

oجرا نے واضح کیا ہے کہ یہ نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتیں حکومت کے طے شدہ پٹرولیم قیمتوں کے میکانزم کے تحت نافذ کی گئی ہیں۔ اس تازہ ترین ردوبدل سے پہلے پٹرول 352.59 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا تھا۔ بزنس ریکارڈر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں مجموعی طور پر بڑی کمی دیکھی گئی، اور 2 نومبر بروز سوموار کو جو قیمت 374.51 روپے فی لیٹر تھی، اس سے اب دام کافی نیچے آ چکے ہیں۔ جمعرات کے روز ہونے والی درمیانی ہفتے کی کمی کے دوران ہی پٹرول 9.41 روپے اور ڈیزل 5.56 روپے فی لیٹر سستا ہو چکا تھا۔

بین الاقوامی محاذ پر، بزنس ریکارڈر کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا اور ان میں نمایاں ہفتہ وار کمی ریکارڈ ہوئی۔ اس تبدیلی کی وجہ امریکہ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں بنیں، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست، جس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ممکنہ کمی کی امیدیں پیدا کیں، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں پر حملوں نے تیل کی قیمتوں کو ایک نچلی سطح پر برقرار رکھا۔ اتار چڑھاؤ کے شکار سیشنز کے دوران، جنوری کے لیے برینٹ خام تیل کے سودے 31 سینٹ اضافے کے ساتھ 98.60 ڈالر فی بیرل پر رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 48 سینٹ بڑھ کر 91.00 ڈالر پر بند ہوئے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان کے عام شہریوں کے لیے ایندھن کے نرخوں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں براہ راست روزمرہ کے اخراجات، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اوگرا کی طرف سے بتائی گئی یہ نئی قیمتیں 10 نومبر 2026 تک نافذ العمل رہیں گی، اور ریگولیٹر نے اتوار 9 نومبر کی عام تعطیل کے باعث اس کی مدت کو مختصر رکھا ہے۔