جب کوئی سرکاری نظام روایتی فائلوں سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اکثر یہ تبدیلی محض دکھاوے کی حد تک ہوتی ہے۔ لیکن بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا سرکاری خریداری کا نظام گزشتہ ایک سال کے دوران اس دائرے سے آگے بڑھ چکا ہے اور ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم اب محض الیکٹرانک ٹینڈرنگ تک محدود نہیں رہا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق، اس پلیٹ فارم کا پہلا روپ صرف ایک ڈیجیٹل گودام کی طرح تھا جہاں پہلے سے ہاتھ یا روایتی طریقوں سے تیار کردہ دستاویزات، جیسے کہ شرائط اور قیمتوں کی فہرستیں، محض اپ لوڈ کر دی جاتی تھیں۔ اس عمل میں اگرچہ لین دین آن لائن ہو گیا تھا لیکن اندرونی دفتری کام اب بھی پرانی کاغذی روایات کے مطابق ہی چل رہا تھا۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر کے مطابق اس نظام کو اپنے وسائل سے تیار کرنا اور پھر اسے تمام وفاقی حکومت میں نافذ کرنا ایک انتہائی بڑا اور چیلنجنگ مرحلہ تھا۔ اب یہ پلیٹ فارم ایک ایسے ماحول میں ڈھل چکا ہے جہاں خریداری کے عمل کی بنیاد ہی سرے سے آن لائن رکھی جاتی ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت کیوں ہے؟
اپ ڈیٹ ہونے والا یہ نیا نظام منتظمین کو اس بات کی سہولت دیتا ہے کہ وہ پورٹل کے اندر ہی تمام ضروری تفصیلات، تخمینی لاگت، طریقہ کار اور شیڈول خود طے کریں۔ دوسری طرف بولی لگانے والے بھی اسی منظم ڈیجیٹل انٹرفیس پر آکر مقررہ اشیاء کے لیے اپنی قیمتیں درج کرتے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، یہ سسٹم روایتی ایکسل شیٹس اور بکھری ہوئی فائلوں کی جگہ خودکار طریقے سے تمام حساب کتاب سنبھال لیتا ہے۔
