جب امریکی کاروباری اداروں نے اکتوبر کے مہینے میں 165,000 نئی ملازمتیں پیدا کیں اور ماہرین کی پیشگوئی کو دنگ رہ جانے پر مجبور کیا، تو وال سٹریٹ میں ہونے والی گفتگو کا رخ یکسر بدل گیا۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، لیبر مارکیٹ کی اس غیر معمولی تیزی اور بیروزگاری کی شرح میں 4.1 فیصد تک کمی نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے سال کے آخری مہینے میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کو دوبارہ روشن کر دیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، امریکی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ روزگار میں ہونے والا یہ اضافہ تمام اندازوں سے بڑھ کر تھا۔ اس نے حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد بازار حصص میں آنے والے اتار چڑھاؤ اور مصنوعی ذہانت کی مانگ سے جڑے خدشات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ فِچ ریٹنگز کے تجزیہ کار اولو سونولا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روزگار کے یہ مضبوط اعداد و شمار، مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) اور صارفین کے اخراجات کی طرح، معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا رکھتے ہیں اور مرکزی بینک کی پوری توجہ مہنگائی پر مرکوز کراتے ہیں۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کے مطابق، ملازمتوں کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بازار کا جوش و خروش انتخابات کے بعد کے مالیاتی اتار چڑھاؤ اور ٹیکنالوجی کی صنعت کے مستقبل کے بارے میں خدشات کی وجہ سے ماند پڑ رہا تھا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش پہلے ہی یہ واضح کر چکے تھے کہ پالیسی ساز شرح سود کے فیصلے معاشی اعداد و شمار کی روشنی میں کریں گے، جس سے اکتوبر کے یہ اعداد و شمار فیصلہ کن بن گئے ہیں۔ دوسری طرف، سینٹ لوئس فیڈ کے صدر البرٹو مسالم نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے علاقے کے کاروباری ادارے مہنگائی کو ایک بڑا نقصان دہ ٹیکس سمجھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر انہوں نے سختی کا سلسلہ جاری رکھنے کی حمایت کی۔

اس کی اہمیت کیا ہے

امریکہ کی مالیاتی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی منڈیوں کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں کیونکہ ان کا براہ راست اثر سرمائے کی نقل و حرکت، اشیا کی قیمتوں اور بین الاقوامی کرنسیوں پر پڑتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں قرض لینے کی لاگت بدلنے سے اس کے اثرات پوری دنیا کے مالیاتی منظر نامے پر محسوس کیے جاتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

متوقع دسمبر کے پالیسی اجلاس سے پہلے، پالیسی ساز آنے والے معاشی اشاریوں پر کڑی نظر رکھیں گے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ مانیٹری پالیسی میں مزید کیا تبدیلیاں لانی ہیں۔