جب معاشی ترقی کی رفتار بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں محض برائے نام ہو، تو غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اس تلخ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز اور صنعت کار کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں جمع ہوئے، جہاں ادارے کی چھٹی سالانہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، دو روزہ تقریب کا اہتمام آئی بی اے کے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ (سی بی ای آر) نے عالمی بینک گروپ، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، ناپڈپ، ڈان میڈیا اور آواری ٹاورز کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ملک کو گھیرے ہوئے کثیر جہتی مسائل سے نکلنے اور ایک پائیدار معاشی مستقبل کی طرف بڑھنے کے راستے تلاش کرنا تھا۔

کانفرنس کے آغاز پر، آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے واضح کیا کہ معیشت، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور سیاسی مشکلات ایک دوسرے کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے بحران ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، انہوں نے نشاندہی کی کہ شرحِ نمو ہمیشہ آبادی کی شرح کے قریب ہی رہی ہے، اور موجودہ آبادی جو تقریباً 25 سال کے لگ بھگ یا 25 کروڑ ہے، 2030 تک 27 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے بالخصوص موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کو ایسے نازک مسائل قرار دیا جن پر فوری اور بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے، شعبہ ایس ای ایس ایس کے ڈین ڈاکٹر یعقوب خان بنگش نے افتتاحی خطاب میں مشکلات کے باوجود قوم کی جاندار مزاحمت کو سراہا، جیسا کہ بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار آنے والے مصائب سے صرف جان چھڑا کر زندہ بچ جانا حقیقی ترقی نہیں کہلا سکتا، اور اصل امتحان محض ان مشکلات کو جھیلنا نہیں بلکہ ان سے آگے نکلنا ہے۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، 'پولی کرائسز سے آگے: پائیدار معاشی مستقبل کی راہیں' کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں اسکالرز، پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس اجتماعی کوشش میں عالمی بینک اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن جیسے اہم ادارے بھی شریک تھے، جن کا مقصد حکمرانی کے نقائص سے لے کر ماحولیاتی تبدیلیوں تک تمام ساختی کمزوریوں کا احاطہ کرنا تھا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

پاکستان بھر کے عام شہریوں کے لیے یہ مباحث براہِ راست روزگار، وسائل کی دستیابی اور معاشی استحکام جیسے روزمرہ کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ماہرین اور تعلیمی ادارے موسمیاتی دباؤ اور آبادی کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتے ہیں، تو اس قسم کے فورمز سے نکلنے والے نتائج ہی ان پالیسی فیصلوں کی بنیاد بنتے ہیں جو عام گھرانوں کے چولہے اور ملک کی مجموعی خوشحالی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔