واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ میں بڑا پھیر بدل کرتے ہوئے نئے چیف آف اسٹاف کا اعلان کر دیا ہے۔ کاروبارِ حکومت کو نئے ڈھنگ سے چلانے کے لیے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکی صدر کو کانگریس کے انتخابات میں شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ان کے پرانے مشیر اسٹیفن ملر اب وائٹ ہاؤس میں چیف آف اسٹاف کے منصب پر فائز ہوں گے۔ انتخابات میں حکمراں جماعت کو ملنے والے دھکے کے فوری بعد یہ انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سابقہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاندار کام کیا ہے اور اب وہ ان کے سیاسی امور کی دیکھ بھال کریں گے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے نئے نگران کو اپنے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار کیا۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ انتظامی تبدیلی وسطی مدت کے انتخابات میں ریپبلکنز کی بڑی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ ووٹرز نے ملکی معیشت کی ابتر صورتحال اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جنگی صورتحال پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے یہ فیصلے سنائے۔ انتظامیہ کی یہ نئی تبدیلی پیر کے روز سے نافذ العمل ہوگی۔

اس کی اہمیت

واشنگٹن کے ایوانِ اقتدار میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے معاشی اور سفارتی اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں، دو طرفہ تعلقات اور عالمی منڈیوں کے مبصرین ہمیشہ اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ عالمی دارالحکومتوں کے اہم عہدوں پر کون فائز ہے، کیونکہ اس سے خارجہ پالیسی اور معاشی تعاون کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔