مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لیے ایک اور پریشان کن خبر سامنے آئی ہے، مگر اس بار خطرہ کسی جنگ یا تیل کی قیمتوں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا سے پیدا ہو رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ پر مرکزی بینکوں کو کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے جنون اور کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عالمی معیشت کے لیے نئی الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، جارجیوا کا کہنا تھا کہ بازارِ حصص میں آنے والی یہ تبدیلیاں مستقبل میں بھی جاری رہ سکتی ہیں، جس سے قیمتوں میں استحکام لانے کی عالمی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف کی چیف نے مشورہ دیا کہ مرکزی بینک اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ اگر ٹیکنالوجی کے شعبے میں اچانک مندی آئی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی ترقی پر پڑیں گے۔

جنوبی کوریا کا بڑا قدم

ایک طرف جہاں آئی ایم ایف احتیاط کا مشورہ دے رہا ہے، وہیں کچھ ممالک اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، جنوبی کوریا کے صدر لی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ایک ریکارڈ ساز بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام تر خطرات کے باوجود وہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

عام آدمی پر اس کے اثرات

پاکستان جیسے ممالک کے لیے عالمی معیشت میں آنے والی اس ہلچل کے گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔ جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو اس سے بین الاقوامی قرضوں کی شرائط اور درآمدات کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔ اگر بڑے ممالک کے مرکزی بینک مصنوعی ذہانت کی وجہ سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہیں، تو اس کا بالواسطہ اثر پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عام آدمی کی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام ہی مقامی معیشت کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔