اہم نکات
- الجزیرہ اور بزنس ریکارڈر کے مطابق، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو نظرانداز کرتے ہوئے حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت دی ہے۔
- الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ 27 اکتوبر کے غیر حتمی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں 120 رکنی پارلیمنٹ یعنی کنیست میں کسی بھی بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں ہو سکتیں۔
- الجزیرہ اور بزنس ریکارڈر کے بیانات کے مطابق، گادی آئزن کوٹ کو 67 اراکینِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو 46 ارکان کی تائید ملی۔
الجزیرہ اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق، پارلیمانی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی تعطل کے پیش نظر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیچھے ہٹا دیا ہے اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو اقتدار کا نیا اتحاد بنانے کا پہلا موقع فراہم کر دیا ہے۔
اہم تفصیلات
الجزیرہ کے مطابق صدر اسحاق ہرزوگ نے ہفتے کی شام ایک باضابطہ تقریب سے قبل یاشر پارٹی کے سربراہ اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ صدر کے ترجمان کے مطابق صدر نے گادی آئزن کوٹ کو ایوانِ صدر میں منصب سنبھالنے کی دعوت دی۔
الجزیرہ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 27 اکتوبر کے عام انتخابات میں گادی آئزن کوٹ کے چار جماعتی اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں جبکہ نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی اتحاد 53 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا، جس کی وجہ سے دونوں ہی فریق 120 رکنی کنیست میں اکثریت کے لیے ضروری 61 نشستوں کے ہندسے تک نہ پہنچ سکے۔ اسی انتخاب میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والے عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں اپنے نام کیں۔
الجزیرہ نے بتایا کہ گادی آئزن کوٹ کو 67 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو 46 ارکان کی حمایت ملی۔ بزنس ریکارڈر کا اضافہ ہے کہ اگرچہ عرب رہنماؤں نے گادی آئزن کوٹ کو نامزد کیا تھا، لیکن انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت یافتہ اپوزیشن حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
پس منظر اور اثرات
الجزیرہ اور بزنس ریکارڈر کے مطابق گادی آئزن کوٹ کو اب حکمران اتحاد تشکیل دینے کے لیے 28 دن کا وقت ملا ہے جبکہ قواعد و ضوابط کے تحت اس مدت میں مزید 14 دن کی توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ دونوں نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان کے اقتدار تک پہنچنے کے راستوں میں بیرونی عرب حمایت سے اقلیتی حکومت بنانا، مطلوبہ 61 نشستیں پوری کرنے کے لیے شاس اور یونائیٹڈ توراہ یہودازم جیسی انتہا پسند مذہبی جماعتوں سے شراکت داری کرنا، یا دیگر سیاسی سمجھوتوں پر عمل کرنا شامل ہے۔
خلاصہ اور اگلا مرحلہ
اس نامزدگی کے بعد اب کئی ہفتوں تک طویل سیاسی مذاکرات متوقع ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا گادی آئزن کوٹ اپنی 28 دن کی مدت ختم ہونے سے پہلے سیاسی خلیج کو پاٹنے اور ایک مستحکم انتظامیہ قائم کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

Gadi Eisenkot
بنیامین نیتنیاہو
Isaac Herzog