جب جرائم کی کوئی سرحد نہیں رہتی تو دونوں ملکوں کو مل کر ہی حفاظتی حصار مضبوط کرنا پڑتا ہے۔ برطانوی اور پاکستانی حکام نے باضابطہ قانونی ڈھقچوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ منشیات کے کارٹلز اور سکیورٹی کے چیلنجز سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا سکے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانیہ کے وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جاروس کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں اتفاق ہوا کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستان کی انسداد منشیات فورس کے مابین معاہدے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں منشیات کی روک تھام کے علاوہ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات اور غیر قانونی نقل مکانی پر قابو پانے کے امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ نادرا، وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے، اور کوسٹ گارڈز کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے اور عملے کی تربیت کے خصوصی پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔
پس منظر
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں فریق باہمی تعاون کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، حالیہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں برطانوی سکیورٹی وزیر نے غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے میں ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل جرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے نمٹنے پر بھی زور دیا گیا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
عام شہریوں کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سکیورٹی کے محکموں کے درمیان اس بہترہونے والے اشتراک کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر متحرک جرائم پیشہ اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوگا۔
آگے کیا ہوگا؟
دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے گا، جبکہ دوطرفہ مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔

محسن رضا نقوی
Dan Jarvis