مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران خطے کے حالات نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے، اور ذرائع کے مطابق سعودی عرب کو یمن کے حوثی دستوں کی جانب سے درپیش حملوں کے تناظر میں شام سے عسکری مشاورت اور تربیت حاصل ہو رہی ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، دو شامی عسکری ذرائع اور ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران محدود تعداد میں شامی فوجی اہلکار سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے یہ تربیت کار اور مشیر سعودی عرب میں موجود سعودی اور یمنی یونٹس کی جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، شام کے دو باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ درجنوں فوجی اہلکار اس مقصد کے لیے مملکت گئے ہیں، اور اگرچہ ابتدائی طور پر ان کا کام تربیت اور مشاورت ہے لیکن ان کا دائرہ کار اس سے وسیع بھی ہو سکتا ہے۔
رابطہ کرنے پر ایک سینئر شامی سفارتکار نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس مرحلے پر کسی بھی عسکری تعیناتی کا ذکر قبل از وقت ہے، اور شام کی توجہ اندرونی سلامتی، سرحدوں کے دفاع اور ملکی تعمیر نو پر مرکوز ہے۔ شامی سفارتکار کا مزید کہنا تھا کہ بدھ کے روز طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے میں خصوصی طور پر مشاورتی تعاون، تربیت اور تجربات کا تبادلہ شامل ہے۔
پس منظر
ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان کشیدگی جولائی میں اس وقت مزید بڑھ گئی جب مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازع کی وجہ سے یمن کی جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ریاض نے مختلف اتحادیوں سے عسکری اور دفاعی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ شامی فوجی اہلکار سالوں کی اندرونی جنگ کے دوران عملی میدان میں تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہو چکے ہیں۔
اس کی اہمیت
پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور اتحادی سفارتکاری میں ہونے والی تبدیلیاں گہرے معاشی اور جغرافیائی اثرات رکھتی ہیں، بالخصوص علاقائی استحکام اور توانائی کی سپلائی لائن کے حوالے سے۔ خطے کے اہم دارالحکومتوں کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی اور سفارتی تعاون معاشی ماہرین اور مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
آگے کیا ہوگا
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں جاری لڑائی میں بھی تیزی آرہی ہے۔

