سفر کی ایک عام سی صبح یا رات کیسے پل بھر میں کہرام میں بدل سکتی ہے، اس کی ہولناک مثال ایبٹ آباد اور بھکر کے مناظر ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق ملک کے دو مختلف حصوں میں سڑکوں پر پیش آنے والے خوفناک حادثات کے نتیجے میں کم از کم 11 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی حالت میں اسپتال پہنچائے گئے۔
پہلا المناک واقعہ ایبٹ آباد میں حویلیاں انٹرچینج کے قریب پیش آیا، جہاں گلگت سے راولپنڈی کی طرف جانے والی مسافر بس کا اچانک ٹائر پھٹ گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ڈرائیور مسافر گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ تیز رفتار بس سامنے کھڑے ڈمپر ٹرک سے جا ٹکرائی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ایوب میڈیکل کمپلیکس اور ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ حکام نے تصدیق کی کہ اس حادثے میں جان بحق ہونے والے افراد کا تعلق گلگت سے تھا۔
دوسری جانب، رات کی تاریکی میں بھکر میں خوشاب روڈ پر ایک اور المیہ رونما ہوا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ٹانک سے سرگودھا جانے والے مسافروں سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ اس دردناک حادثے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت 4 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ کئی دیگر مسافر زخمی ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں نے ملبے سے متاثرہ افراد کو باہر نکالا اور طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا۔
پس منظر
یہ دونوں دلخراش واقعات اس وقت پیش آئے جب مسافر معمول کے مطابق اپنے منزل مقصد کی جانب رواں دواں تھے۔ ایبٹ آباد میں گلگت سے راولپنڈی جانے والی طویل فاصلے کی بس حادثے کا شکار ہوئی، جبکہ بھکر میں رات گئے ٹانک سے سرگودھا جانے والی ٹریکٹر ٹرالی الٹ گئی۔
یہ اہم کیوں ہے
اس طرح کے تسلسل سے ہونے والے حادثات مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش ان خطرناک خطرات کو اجاگر کرتے ہیں جن کا سامنا سڑکوں پر سفر کرنے والے عام شہریوں کو ہوتا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھکر کے واقعے میں مبینہ غفلت برتنے پر ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
موصولہ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے متاثرہ افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا اور بھکر کے واقعے میں ملوث ڈرائیور کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔
