معیشت کو مضبوط بنانے اور کسانوں کی حالت بدلنے کے لیے پنجاب بھر میں زراعت کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر لی گئی ہے۔ "بزنس ریکارڈر" کی رپورٹ کے مطابق، صوبائی انتظامیہ کا ہدف ہے کہ اس جامع زرعی منصوبے کے تحت ایک ہزار 995 ارب روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی جائے، جبکہ اس سے برآمدات میں 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ اور 162,000 سے زائد براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

یہ تمام اہداف پنجاب کے اس اہم زرعی تبدیلی کے پروگرام کا حصہ ہیں۔ "بزنس ریکارڈر" کے مطابق، پنجاب کے پارلیمانی سیکرٹری برائے زراعت سردار اسامہ فیاض لغاری نے لاہور میں پانچ روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان تفصیلی اہداف کا ذکر کیا۔ یہ تقریب 2 سے 6 نومبر 2026 کے دوران منعقد کی گئی تھی، جسے نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن آف پاکستان اور جاپان کی ایشین پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن نے مشترکہ طور پر سجایا تھا، جس میں مختلف رکن ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی۔

پس منظر

"بزنس ریکارڈر" کے مطابق، اس بین الاقوامی ورکشاپ کا مقصد غیر ملکی مندوبین کو زرعی پیداوار بڑھانے، سپلائی کے نظام کو بہتر بنانے اور پائیدار ترقی کے نئے طریقے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سردار اسامہ فیاض لغاری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بدلتا ہوا موسم، پانی کی شدید قلت اور فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ فوری طور پر جدید، ماحول دوست اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق کاشتکاری کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق، 2026 سے 2029 تک جاری رہنے والے اس وسیع تر منصوبے (پیواٹ) کے تحت سرگودھا، خانیوال اور اوکاڑہ "بزنس ریکارڈر" کے مطابق اس زراعتی منصوبے کے تحت سرگودھا، خانیوال اور اوکاڑہ میں خصوصی زرعی پروسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

"بزنس ریکارڈر" کی رپورٹ کے مطابق، زراعت کا مستقبل اب صرف کچی فصلیں اگانے پر نہیں بلکہ ان سے تیار شدہ اور مسابقتی اشیاء بنانے پر منحصر ہے۔ عام شہریوں اور محنت کشوں کے لیے یہ تبدیلیاں اور نئے زراعتی کارخانے روزگار کے حصول، بہتر سپلائی چین اور موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے میں معاشی استحکام کا ذریعہ بنیں گے۔